Twilight in Delhi Summary | Complete Chapter-wise

Twilight in Delhi Summary | Complete Chapter-wise

Part-I Summary of Twilight in Delhi

Chapter-I Summary of Twilight in Delhi

میر نہال کا گھر دہلی کے اندر واقع ہے۔یہ ایک اچھا خاصا بڑا گھر ہے جسمیں کھجور اور ہینا کا درخت بھی ہے۔ یہ گھر ایک اعلیٰ درجے کے مسلمان طبقے کو ظاہر کرتا ہے۔ میر نہال بھارت کے مسلمان طبقے سے تعلق رکھتا ہے ۔اس کا گھر، لباس، دانش اور شوق اپنی سماجی حیثیت کی عکاسی کرتی ہیں۔میر نہال کے خاندان میں اس کی بیوی، تین بیٹے، دو بیٹیاں,دو بہو، ان کے مقتول بھائی کی بیوہ، بیگم جمال اور اس کی بابھی، زمانی شامل ہیں۔ دو بڑے بیٹوں کبیر الدین اور حبیب الدین سرکاری ملازمت کرتے ہیں۔ ان کے بیوی بچے ان کے ساتھ رہتے ہیں جہاں پر بھی ان کو پوسٹ کیا جاتا ہے۔بڑی بیٹی جسکا نام مسز وحیدہے ، ایک بیوہ ہے جو اپنے سسرال کے ساتھ بھوپال میں رہتی ہے جبکہ ایک بیٹا اصغر اور بیٹی مہرو دہلی میں ہی رہتے ہیں جو کہ غیر شادی شدہ ہیں۔ مہرو کا رشتہ میرج نامی ایک شخص سے طے ہو چکا ہے جوبھوپال میں رہتا ہے۔ مہرو نے کبھی بھی اسے نہیں دیکھا ہے، لیکن اکثر اس کے خواب دیکھتی ہے۔روایت کے مطابق، میر نہال خاندان کے سربراہ ہیں۔ میر نہال کا گھر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک حصے کو مردانہ کہ نام دیا گیا ہے جو کہ فیملی کے سربراہ اور مہمانوں کے لئے ہے جبکہ دوسرے گھر کو زنانہ کا نام دیا گیا ہے جو صرف عورتوں کے لئے مختص ہے۔

یہ ایک سیاہ موسم گرما کی رات ہے۔ گلیاں بالکل ویران ہیں ۔ صرف ایک یا دو بھکاری اورجیسمین بیچنے والا ہے۔ میر نہال گیارہ بجے کےقریب گھر کے زنانہ حصے میں آتا ہے اور رات کا کھانہ کھاتا ہے۔ اچانک اسکی نظر کبوتروں کے پنجرے میں ایک سانپ پر پڑتی ہے جو میر نہال کے ایک شیرازی کبوتر کو کھا رہا ہے۔ وہ دم سے سانپ کو پکڑتا ہے،اسے مارتا ہے، او رپھر وہ واپس آ کر کھانے کو دوبارہ شروع کرتا ہے۔

Chapter-II Summary of Twilight in Delhi

اصغر چھت پر اکیلا سوتا ہے۔ حال ہی میں وہ مشتری بائی نامی رقص کرنے والی لڑکی کے ساتھ محبت میں مبتلا ہوا ہے۔ لیکن اب بلقیس جو کہ اسکے دوست بندو کی بہن اور اسکے کزن اشفاق کی سالی ہے اس کی محبت میں ہے۔ اصغر پہلے مشتری بائی اور پھر بلقیس سے دو علیحدہ خوابوں میں ملاقات کرتا ہے اور ان کے ساتھ رقص بھی کرتا ہے۔

Chapter-III Summary of Twilight in Delhi

نثار احمد جو کہ ایک موذن ہے، وہ آذان دیتا ہے اور محلے داروں کو نیند سے جگاتا ہے۔۔ کتے گھومنا شروع کر دیتے ہیں اور کھانے کی تلاش میں ہیں۔ تاریکی ختم ہو جاتی ہے۔ ستارے دھندلانے لگے ہیں۔ خوبصورت رنگوں کی برتری میں سورج پانی کی طرف سے ظاہر ہوتا ہے ۔ اور جلد ہی پورے شہر میں روشنی کا سیلاب آ جاتا ہے۔ لوگ اٹھتے ہیں اور اپنے کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔

آسمان میں بے شمار کبوتر پرواز کر رہے ہیں۔کبوتر رکھنے والے اپنے کبوتروں کومخصوص ہدایات دے رہے ہیں۔مختلف قسم کے بھکاری سڑکوں پرسے گزرتے ہی۔ چاندی کی پتی بنانے کی مخصوص آوازآتی ہے۔ سونے کی پتی بنانے اور دیگر تجارت کرنے والےدن کے آغاز کا اظہار کرتے ہیں۔میر نہال کے گھر میں، بیگم جمال اور اس کی باابھی کی آواز سنائی دیتی ہے۔ بیگم نہال قرآن کریم کی تلاوت کر رہی ہے۔ میر نہال کا بھتیجا مسرور سکول چلا جاتا ہے۔

میر نہال چھت کے اوپر چلا جاتا ہے جہاں وہ اپنے ہمسائے خواجہ اشرف علی کے ساتھ کبوتر پرواز کا مقابلہ کرتا ہے۔ ایک طویل عرصے تک گھومنے والی پرواز کے بعد میر نہال کا کبوترکئی دوسرے کبوتروں کے ساتھ واپس آ جاجاتا ہے جسکو دیکھ کر میر نہال بہت خوش ہوتاہے۔وہ نئے آنے والے کبوتروں کو پنجرے میں ڈال دیتا ہے اور پرانے کبوتر کوایک اور پرواز کے لئے واپس بھیجتا ہے۔ جیسا کہ یہ غیر معمولی گرم کا موسم ہے۔ جو لوگ کام نہیں کرتے ہیں وہ زیادہ تر گھر میں رہتے ہیں اور پچھلے پہر میں اپنے دوستوں سے ملنے اور خریداری کرنے کے لئے گھر سے نکلتے ہیں۔

Chapter-IV Summary of Twilight in Delhi

تقریبا 5 بجے، اگرچہ دن بھی گرم تھا، اصغر باہر آ گیا اور بلقیس کی ایک جھلک دیکھنے کی امید میں اپنے دوست بندو کے گھر چل دیا۔ لیکن قسمت نے اس وقت اس کا ساتھ نہ دیا۔ اس کا دوست گھر میں نہیں تھا؛ نہ ہی اس کا کزن اشفاق تھا۔وہ صرف اشفاق کی بیوی، بلقیس کی بڑی بہن، کو دیکھ سکا۔ ایک گلاس شربت پینے کے بعد وہ واپس اپنے گھرکو ہو لیا۔ راستے میں وہ اپنے دوست باری کے گھر میں رکا۔ باری ایک پتنگ اڑا رہا تھا۔ آسمان رنگ برنگے پتنگوں سے بھرا ہوا تھا۔باری نے اپنے دوست کے افسردہ مزاج کے بارے میں پوچھا۔ اصغر نے اپنی اداسی کی وجہ بتائی۔ اس نے باری کو بتایا کہ اس نے ایک دن بلقیس سے ملاقات کی تھی اور اسکی دلکش نظریں اسے بھا گئی تھیں۔ اسے لگتا ہے کہ بلقیس بھی اس سے محبت کرتی ہے لیکن وہ ایک سید خاندان سے تعلق رکھتا ہےجبکہ بلقیس کا تعلق مغل خاندان سے ہے اسلئے اسکا والد بلقیس سے شادی کی اجازت ہرگز نہ دے گا کیونکہ وہ پہلے ہی اشفاق اور بلقیس کی بہن کی شادی کے بارے میں اعتراض کر چکا ہے۔ عشا کی اذان کا وقت قریب ہے۔ اصغر نے باری کو الوداع کیا اور واپس آ کر افسوسناک طور پر اپنی ادھوری محبت کے متعلق سونے لگا۔

Chapter-V Summary of Twilight in Delhi

اصغر نے اپنی بہن مسز وحیدکو خط لکھا تھا جس میں اس نے اپنی بہن کو گھر آنے کے لئے کہا۔ اس نے اصل وجہ کو ظاہر نہیں کیا تھا لیکن اس خط سے مسز وحید کو احساس ہوا کہ اصغر کو اسکی مدد کی ضرورت ہے۔ بیگم وحید بھوپال میں رہتی تھی جو کہ دہلی سے بہت دور ہے۔ وہ سال میں صرف ایک یا دو بار پنے گھر آتی تھی۔ وہ انیس سال کی عمر میں ہی بیوہ ہو گئی تھی لیکن اپنے ایک بیٹے اور بیٹی کی وجہ سے اس نے اپنے سسرال میں ہی رہنا پسند کیا۔

میر نہال ایک امیر خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور artistocratic taste رکھتا ہے۔ کبوتر رکھنے کے علاوہ اسکے کچھ اور شوق بھی ہیں۔ اس نے ایک ببن جان نامی خاتون کو رکھیل بنا رکھا ہے اور اسے دریا بازار میں ایک گھربھی لیکر دیا ہے۔ اس رشتے کو چھپانے کے لئے اس نے ببن جان کے لیس سازی کے کاروبار میں شراکت داری لے رکھی ہے۔ وہ اکثر دیر رات گھر آتا ہے۔ اسکا ایک ملازم جسیے عمر تیس سال ہے وہ بھی رات دیر تک گھر سے غائب رہتا ہے اور طوائفوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔

Chapter-VI Summary of Twilight in Delhi

بیگم وحید، اصغر کا خط ملنے کے بعد جلد ہی گھر واپس آجاتی ہے۔ گھر میں سب اسے مل کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ تقریبا دس بجے اصغر کو اپنی بہن سے اکیلے میں اپنے مسائل کے بارے میں بات کرنے کا موقع ملتا ہے۔ کچھ وقت کلئے دونوں اپنی پرانی یادوں کو دہراتے ہیں۔ وہ اپنی والدہ کے بارے میں بات کرتے ہیں جب اس کو ایک بیماری کی وجہ سے ایک علیحدہ گھر میں رکھا گیا تھا۔ بیگم وحید اور اصغر اس وقت اس کے ساتھ رہے تھے۔ اسکے بعد وہ بیگم وحید کے خاوند کے اچانک وفات پا جانے کی باتیں کرتے ہیں۔

اصغر پنی بہن سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔ اور پھر وہ اپنے مسائل کے بارے میں اسکو بتاتا ہے۔ بیگم وحید اسکو بلقیس سے شادی کرنے پر آنے والے مسائل کے بارے میں آگاہ کرتی ہے۔ لیکن اصغر اسے بتاتا ہے کہ اگر اس کی شادی بلقیس سے نہ ہوئی تو وہ خودکشی کر لے گا۔ اس کی بہن اصغر کے اس فیصلے سے خوفزدہ ہو جاتی ہے۔وہ جہاں تک ہو سکے اسکی مدد کرنے کا وعدہ کرتی ہے۔ یہ سننے کے بعد اصغر کو سکون ملتا ہے۔ باہر سے قوالی کی آواز آتی ہے۔ وہ اپنے ایک ہم مکتب کو دیکھتا ہے جو قوالی کے شعر سن کر جھوم رہا ہے۔ اصغر جانتا ہے کہ حمید بھی ایک لڑکی سے محبت کرتا تھا لیکن خاندان اور مذہب ایک جیسا نہ ہونے کی وجہ سے دونوں کی شادی نہ ہو سکی تھی جسکی وجہ سے حمید پاگل ہو گیا تھا۔جیسا کہ وہ اب ہے۔

Chapter-VII Summary of Twilight in Delhi

اگلی صبح بيگم وحید نے اپنی ماں کے ساتھ اصغر کی شادی کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔ شروع میں اس نے لڑکی کا نام نہ بتایا جس سے اصغر شادی کرنا چاہتا ہے۔ اسلئے اسکی والدہ، بیگم نہال، نے اسے بتایا کے وہ چاہتی ہے اصغر کی شادی ثریا سے ہو جائے جو کہ اسکے ایک کزن نصیرالدین کی بیٹی ہے۔ اسکا خیال ہے کہ arrange marriage ہمیشہ کامیاب رہتی ہے۔ تبھی وہاں سعید حسن جو کہ بیگم نہال کی مرحوم بیٹی کا شوہر ہے وہاں آتا ہے۔ وہ مہرو کا ہاتھ مانگتا ہے لیکن اسے منع کر دیا جاتا ہے کیونکہ مہرو کا رشتہ پہلے ہی میرج سے طے ہو چکا ہے۔ یہ سننے کے بعد سعید حسن بیگم نہال اور بیگم وحید کو ایک حدیث سناتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں کے درمیان تفہیم ہونا ضروری ہے۔ ایک نامعلوم آدمی سے لڑکی کی شادی کرنا ایک خطرہ ہو سکتا ہے۔ جب وہ چلا جاتا ہے تو بیگم وحید اصغر اور بلقیس کی شادی کی بات کرتی ہے۔ بیگم نہال کہتی ہے کہ ایسا ناممکن ہے کیونکہ بلقیس ایک مغل خاندان سے تعلق رکھتی ہے جبکہ نہال خاندان سید ہے۔مزید براں، بلقیس ایک نوکرانی کی بیٹی ہے۔ جب بیگم وحید نے بتایا کہ اصغر نے خودکشی کرنے کی دھیال دی ہے اگر اسکی شادی بلقیس سے نہ ہوئی تو۔بیگم وحید یہ سن کر چھاتی پیٹتی ہے اور کہتی ہے کہ بلقیس نے یا بیگم جمال نے اسکے بیٹے پر جادو کر دیا ہے۔ بیگم جمال الزام سن کر پوچھتی ہے کہ اسکا نام کیوں لیا گیا ہے۔ اسکے جواب میں بیگم نہال اور بیگم وحید بتاتیں ہیں کہ اسکے بارے میں دونوں نے کچھ نہیں کہا۔ وہ غیر مطمئن واپس چلی جاتی ہے۔

Chapter-VIII Summary of Twilight in Delhi

یہ ایک گرم اور مستحکم دوپہر تھی۔ ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ پھر اچانک ایک ریتلا طوفان پھیل گیا۔ ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ لالٹینیں جلا دی گئی۔ بیگم جمال نے کہا کہ طوفان کو روکنے کے لئے فوری طور پر بستر کے نیچے ایک جھاڑو ڈال دیا جائے۔ یہ عام وجوہات میں سے ایک تھا کہ چارپائی کے پاؤں کے نیچے ایک جھاڑو ڈال کر طوفان کا خاتمہ کیا جا تا تھا۔ ہدایات فوری طور پر مانی گئی۔ خواتین کو یقین تھا کہ طوفان اس وقت آتا ہے جب جنات کی شادی ہوتی ہے۔کمرے کے ایک کونے میں بیگم نہال اور بیگم وحید اصغر کی بلقیس سے شادی کے بارے میں سرگوشی کر رہی تھیں۔ جلد ہی طوفان ختم ہو گیا۔ لالٹین بجا دی گی اور جھاڑو بستر کے نیچے سے اٹھا لیا گیا۔ چیزیں معمول کے مطابق واپس آگئیں۔

Chapter IX Summary of Twilight in Delhi

بیگم نہال نے اصغر کی بلقیس سے شادی کرنے کے بارے میں میر نہال سے بات کرنے کی کوشش کی۔ بیگم نہال نے میر نہال کو بلانے کے لئے بھیجا ۔ جب وہ اندر آیا تو وہ اچھے موڈ میں لگ رہا تھا۔ لیکن جب بیگم نہال نے اس موضوع کوشروع کیا تو وہ غصے سےبھر گیا۔ اس نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو بلقیس سے شادی کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ بیگم نہال نے اسے کہا کہ اصغر نے خودکشی کرنے کی دھمکی دی ہے اگر بلقیس سے شادی کرنے کی اجازت نہیں ملی تو وہ خود کو ختم کر لے گا۔ میر نہال نے کہا کہ اسے اصغر کی دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔اس نے اعلان کیا کہ وہ اصغر کو جائیداد سے عاق کر دے گا اور اسے اپنے گھر سے نکال دے گا۔اس نے کہا کے اصغر کو اپنی خاندان کی عزت سے زیادہ اور چیزوں کی پرواہ ہے۔ یہ کہتے ہی وہ باہر چلا گیا۔ وہ گھر کے مردانہ حصے میں آ گیا۔ وہاں اس نے اپنا کوٹ اتارا اور باہر نکل گیا۔ لگتا تھا کہ وہ ببن جان کو ملنے کیلئے گیا تھا۔

Chapter-X Summary of Twilight in Delhi

دلیچین،ایک ملازمہ، نے بیگم جمال کو بتایا کہ اس نے بیگم نہال اور بیگم وحید کو اصغر کی شادی کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا ہے۔ اصغر، بلقیس سے شادی کرنے کا خواہشمند ہے۔ بیگم جمال، بیگم ناھل کے پاس گئی اور اسے اصغر کی شادی کی مبارکباد دی لیکن بیگم نہال نے اسے بتایا کہ اصغر کے والد نے اس شادی سے منع کر دیا ہے۔ اس پر بیگم جمال نے کہا کہ شادی کی بات عورتوں کہ درمیان ہونی چاہئے۔ بعد میں میر نہال اس شادی کو مان ہی لے گا۔اس نے بیگم نہال کویقین دلایا کہ وہ اس معاملے میں اس کے ساتھ ہے۔ اور وہ بیگم شہباز کے گھرشادی کی بات کرنےکیلئے اس کے ساتھ جائے گی۔

Chapter-XI Summary of Twilight in Delhi

اصغر بلقیس سے شادی کرنے کے لئے بہت بے چین تھا۔ اسکے ایک دوست باری نے اسے مشتری بائی کے پاس جانے کا مشورہ دیا تاکہ اصغر کو تھوڑا سکون مل سکے۔ اصغر نے اس خیال کو پسند نہیں کیا، لیکن وہ باری کے ساتھ جانے کے لئیے تیار ہو گیا ۔مشتری بائی اصغر کو دیکھ کر خوش ہوئی اور اسکے دیرینہ عدم موجودگی کے بارے میں شکایت کی۔ ایسا لگتا تھا کہ اس نے اصغر کو بہت یاد کیا ہو گا۔ لیکن اصغر نے مشتری بائی کو بالکل بھی یاد نہ کیا۔ مشتری بائی نے دونوں کو بہادر شاہ کی ایک خوبصورت غزل سنا کر لطف اندوز کیا۔ پھر اس نے انہیں پان بھی پیش کیئےجو اس نے اپنے خوبصورت ہاتھوں سے بنائےتھے۔ جب دونوں جانے لگے تواصغر نے مشتری بائی کو بتای کہ اصغر بلقیس کے پیار میں پڑ چکا ہے۔ اصغر کا چہرہ پیلا پڑگیا تھا۔ مشتری بائی نے اصغر کو تجویز دی کہ کبھی پیار میں نہ پڑنا۔ پیار میں پڑنے سے بہتر ہے کہ خودکشی کر لی جائے۔

Chapter-XII Summary of Twilight in Delhi

اصغر رات کو بہت دیر سے گھر واپس آیا لیکن اس نے اپنی بہن، بیگم وحید کو اس کے انتظار میں جاگتے دیکھا۔ بیگم وحید نے اصغر سے کہا کہ اس کی ماں کو اس بات کا یقین ہے کہ بالآخر اسکا باپ شادی کیلئے مان جائے گا۔ اسکے ماننے تک اصغرکو بھوپال میں اس کے ساتھ جانا چاہئے تاکہ وہ اپنی پریشانیوں کو کچھ دیر کے لئے بھول سکے۔ اگلی صبح بیگم نہال، بیگم شہباز کے گھر اصغر اور بلقیس کی شادی کی بات کرنے کیلئے گئی۔ بیگم شہباز نے شادی کی پیشکش کو باآسانی قبول کر لیا۔ اس خوشی کے موقع پر اصغر کے گھر میں ایک محفل میلادکا انعقاد کیا گیا۔ محفل مغرب کی نماز کے بعد شروع ہوئی۔ اس شاندار موقع پر کمرےکوسجایا گیا اورخوشبوں سے مہکا دیا گیا۔ اصغر نے قرآن کریم کی کچھ آیات تلاوت کیں اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے کچھ واقعات کو بیان کیا۔ اس کے بعد تمام حاضرین محفل نعت کو سن کر ادب سے کھڑے ہو گئے۔شمس اور مسروور بھی اس محفل میں شامل تھے۔محفل کے اختتام پر حاضرین میں میٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔آخر میں ان سب نے گھر کی فلاح و بہبود کے لئے دعا کی۔

Chapter-XIII Summary of Twilight in Delhi

بیگم وحید بھوپال واپس جانے کے لئے تیار ہوئی۔ اصغر بھی ساتھ ہو لیا۔موسم معمول سے زیادہ گرم تھا۔ پھر اچانک آسمان بادلوں سے گھر گیا۔ہلکی بارش کے بعد،موسم خوشگوار ہو گیا۔ لوگ اوخلا اور قطب منار پر پکنک منانے کے لئے گھروں سے باہر نکل گئے۔ ہر طرف چہل قدمی تھی اور ساون کے گیت گائے جا رہے تھے۔ بیگم وحید نے رنجیدہ انداز میں اپنے آبائی گھر کو خدا حافظ کہا۔ اصغر اس کے ساتھ جانے کے لئے خوش تھا۔ جیسے ہی وہ ٹرین میں بیٹھا وہ اپنی پریشانیاں بھول گیا۔اس نے محسوس کیا کہ اچانک اسکی قسمت جاگ گئی ہے۔

Part-II Summary of Twilight in Delhi

Chapter-I Summary of Twilight in Delhi

سال 1911 کا موسم غیر معمولی طور پر گرم تھا۔ گرمی کی شدت سے کئی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ گرمی کی وجہ سے کبوتروں کی ایک بڑی تعداد بھی ہلاک ہو گئی تھی۔ موسم میں انتہا کی شدت تھی۔ میرنہال اپنی لیس کی دوکان سے باہر نکلا جس میں وہ حصہ دار تھا۔ اس نے ببن جان کو فون کرنے کا ارادہ کیا، لیکن گرمی کی شدت کی وجہ سے اس نے اس خیال کو ترک کر دیا اورواپس اپنے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے شربت بنانے کے لئے ہرے ہرے آم خریدے اور گھر کو ہو لیا۔ راستے میں وہ شیخ صادق نامی دوکاندار کے پاس رکا۔ دوکاندار نے اسے بتایا کہ وہ اپنی 14 سالہ یتیم بھانجی کی شادی میر نہال کے ایک ملازم کے ساتھ کرنا چاہتا ہے۔ میر نہال نے اسے کہا کہ وہ اپنے ملازم غفور سے بات کرے گا۔ اس نے راستے میں مسجد کے موذن نثار احمد کو دیکھا۔ وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن وہ دوسری گلی کی طرف مڑ گیا۔اس نے راستے میں ایک پاگل فقیر کو بھی دیکھا لیکن اس سے بچنے کے لئے وہ تیز قدموں سے اپنے گھر کے اندر داخل ہو گیا۔ اس دن میر نہال کو اچانک خیال آیا کہ وہ بوڑھا ہو رہا ہے اور وقت بڑی تیزی سے گزر رہا ہے۔

Chapter-II Summary of Twilight in Delhi

میر نہال گھر پہنچا۔ بیگم جمال اور مسرور کو بہت تیز بخار تھا۔ وہ اپنے کبوتروں کو پانی پلانے کے لئے چھت پر چڑھ گیا۔ اسکے تین کبوتر مر چکے تھے اور دو قریب المرگ تھے۔گرمی نے بڑی تباہی مچا دی تھی۔ وہ اس دن اتنا اداس تھا کہ اس نے پچھلے پہر اپنے کبوتروں کو پرواز کے لئے آزادبھی نہیں کیا۔ یہ جمعرات کا دن تھا اسلیئے وہ ہفتہ وار لگنے والی سیل پر کبوتر خریدنے کے لئے چلا گیا۔ وہاں وہ اور بھی کبوتر بازوں سے ملا اور ان سے گپ شپ بھی کی۔ پھر اس نے کچھ اچھے کبوتر خریدے اور اپنے ملازم نذیر کو گھر بھیج دیا۔

جامع مسجد میں شام کی نماز پڑھنے کے بعد وہ اپنے گھر کو ہو لیا۔ وہ کبوتروں کے پنجرے میں نئے کبوتر رکھنے کے لئے گیا۔ اس نے وہاں الو بولتے دیکھا۔ الو کو بری پیش گوئی کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس نےالو کو اڑا دیا۔ اسی وقت اس نے ایک ٹوٹتا تارا دیکھا۔ پھر وہاں غفور آ گیا جس نے اسے مطلع کیا کہ ببن جان کی حالت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔

Chapter-III Summary of Twilight in Delhi

میر نہال جلدی میں ببن جان کے گھر پہنچا تاکہ وہ اسکی صحت یابی کے لئے کچھ کر سکے لیکن اس کے پہنچنے سے پہلے ہی ببن جان مر چکی تھی۔ببن جان کی ماں کی چیخیں سن کر اسکا دل دہل گیا۔ ببن جان معمول سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ وہ سو رہی ہے۔ میر نہال نے اسکی ماں سے بات کی۔ وہ ایک بوڑھی عورت تھی اور غم سے نڈھال تھی۔ میر نہال نے واپسی کا ارادہ کیا۔ اس نے ببن جان کی ماں کو کچھ روپے دئیے اورگھر واپس چلا گیا۔

گھر واپس آنے کے بعد وہ بے چین دکھائی دیا۔ وہ ساری رات ببن جان کی موت کے سانحے کے بارے میں سوچتا رہا۔ صبح اٹھتے ہی وہ چھت پر اپنے کبوتر وں کے پاس گیا تو اس نے دیکھا کہ بلیوں نے اس کے کبوتروں کو مار کھایا ہےکیونکہ رات کو وہ پنجرے کا دروازہ بند کرنا بھول گیا تھا۔ تاہم جو زندہ بچ گئے تھے اس نے انہیں دانہ کھلایا۔ ببن جان کی موت سے اسکا دل ٹوٹ چکا تھا۔ اس نے لیس کی دوکان سے اپنا حصہ واپس لینے کا ارادہ کر لیا کیونکہ اب ببن جان نہ رہ تھی۔ ببن جان کی موت کا اسے بہت صدمہ پہنچا تھا۔

Chapter-IV Summary of Twilight in Delhi

میر نہال ابھی بھی بے چین تھا۔ اس نے اپنے دوست نواب پٹھان کے پاس جانے کا ارادہ کیا تاکہ اس کی اداسی دور ہو سکے۔ وہاں وہ کچھ اور دوستوں سے بھی ملا۔ سبھی اردو ادب سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں معروف شاعر، داغ دہلوی، نواب سرا ج الدین خان اور بہت سارے شاعر شامل تھے۔اس نے کچھ وقت کے لئے موجودہ ادبی موضوعات پر تبادلہ خیال کیا اور پھر وہاں سے گھر واپس آ گیا۔

جب میر نہال، نواب پٹھان کے ساتھ اکیلا تھا۔ اس نے اس سے ببن جان کی موت کے بارے میں بتایا۔ نواب صاحب نے اسے ایک اور رکھیل ڈھونڈنے کے لئے کہا لیکن میر نہال نے منع کر دیا۔ وہ زندگی کے بارے میں کافی حد تک جان چکا تھا۔ نواب صاحب نے اسے اصغر کی شادی کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ ابھی بہت دور ہے۔ اس نے اصغر کی شادی پر اپنا اعتراض واپس لے لیا۔ وہ اب سماجی تعصب سے آزاد ہو چکا تھا۔

Chapter-V Summary of Twilight in Delhi

میر نہال کی کبوتروں اورطوائفوں میں دلچسپی اب ختم ہو چکی تھی۔ اس نے اپنی توجہ سانحات سے ہٹانے کے لیئے کیمیا گری کی طرف دلچسپی لینا شروع کر دیا ۔ اس سے وہ سونا بنانے کی کوشش میں لگ گیا۔ اس نے اپنے دوستوں کو اپنے گھر بلایا۔ اس کے دوست میر نہال کی کیمیا گری میں دلچسپی پر بہت خوش تھے۔ ان دوستوں میں میر سنگی، کمبل شاہ اور لال داڑھی شامل تھے۔ ان کے علاوہ، کبھی کبھار ان کے ساتھ مولوی دلہن بھی ہوتا تھا۔ ان سب کے پاس سونا بنانے کا کوئی معتبر طریقہ نہ تھا بلکہ صرف تجربات تھے لیکن پھر بھی وہ امید کا دامن نہ چھوڑتے تھے۔ وہ اپنے تجربات میں کامیاب تو نہ ہوتے تھے البتہ انہیں زندگی کے دکھ بلانے کا ایک بہانہ مل گیا تھا۔

Chapter-VI Summary of Twilight in Delhi

رمضان کا مہینہ آ گیا تھا۔لوگ مذہب کی طرف توجہ دے رہے تھا۔ روزے اور نمازیں باقاعدگی سے پڑھی جانے لگیں۔ خوف خدا بڑھ گیا۔ ہر آنے والا دن عید کی خوشیوں کو قریب سے قریب تر کر رہا تھا۔ اصغر کی شادی کی تیاری نے میر نہال کے خاندان کو مصروف رکھا۔ میر نہال کا بیٹا حبیب اور اسکی بیٹی بیگم وحید بھی عید کے دنوں میں گھر پہنچ گئے اور اصغر کی شادی کی تیاری میں ہاتھ بٹانے لگے۔ عید خوشیاں اور لطف لے کر آئی۔ دسمبر تک اصغر کی شادی کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔ اسی وقت شہر کے لوگ بادشاہ جارج کی تاج پوشی کی تقریبات کے لیئے تیار ہو رہے تھے۔

Chapter-VII Summary of Twilight in Delhi

تاج پوشی کے موقع پر شہر کو خوب سجایا گیا تھا۔ بہت سے لوگ برطانوی راج کو پسند نہ کرتے تھے۔ لیکن نوجوان نسل اور کاروباری لوگ برطانوی راج سے بہت خوش تھے۔جبکہ بوڑھے لوگ مسلمان مغل سلطنت کے بارے میں سوچتے تھے اور اس وقت کو یاد کر کے خوش ہوتے تھے جو کہ بہادر شاہ ظفر کے بعد ختم ہو گیا تھا۔ بہادر شاہ ظفر کے جانشین غربت کی زندگی بسر کر رہے تھا۔میر نہال کے گھر کے مردانہ حصے میں اکثر اسکے ہم عمر لوگ آتے تھے اور سیاست پر بات کرتے تھے۔ وہ اکثر اپنے حکمرانوں کی نالائقی پر افسوس کرتے تھے۔

Chapter-VIII Summary of Twilight in Delhi

سات دسمبر کو لوگ جامع مسجد اور لال قلعہ کے باہر تاج پوشی کی تقریبات کو دیکھنے کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ سڑکیں برطانوی سپاہیوں سے بھری ہوئی تھیں۔جو کہ کسی بھی ناخوشگوار حالات سے نپٹنے کے لئے تیار تھے۔ ان تقریبات کودیکھ کر میر نہال کو 14 ستمبر1857کا وقت یاد آ گیا جب لوگ جمعہ کی نماز کے بعد جامع مسجد کے باہر برطانوی راج کے خلاف لڑنے کے لئے تیار تھے۔ انہوں نے اس دنThoma Metcalf کی فوج پر حملہ کیا تھا۔ وہ صرف تلواروں سے لیس تھے جبکہ برطانوی سپاہی بندوقوں سے مسلح تھے۔ اسکے باوجود بھی وہ بہادری کے ساتھ لڑے اور دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ اس میں کوئی شک نہیں، ان میں سے اکثر ہلاک ہوئے تھے، لیکن ان کی زبردست جنگ آزادی دنیا کے لئے مثال بن گئی تھی۔ جب تاج پوشی کی تقریبات ختم ہوئیں تو میر نہال افسردہ دل کے ساتھ گھر واپس آیا۔ راستے میں وہ بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے پوتے، مرزا نصیر الملک سے ملا جو کہ اب ایک بھکاری بن چکا تھا۔ اس کو دیکھ کر میر نہال کو بہت افسوس ہوا۔ اس نے مغل سلطنت کے افسوسناک واقعے کے بارے میں اس سے بات کی اور اسے ایک روپیہ دیا اور گھر کی طرف ہو لیا۔

Part-III Summary of Twilight in Delhi

Chapter-I Summary of Twilight in Delhi

اصغر کی منگنی کے موقع پر دو خاندانوں کے درمیان روایتی تحائف کا تبادلہ ہوا ۔منگنی کی تقریب صبح ایک بجے کے قریب اصغر کے گھر میں منعقد ہوئی۔کچھ رسمیں نبھائی گئیں جن میں دلہن کو انگوٹھی پہنانا، دلہن کو رقم دینا، اور ہنسی مذاق کرنا شامل تھیں۔ ہر کوئی خوش تھا۔

Chapter-II Summary of Twilight in Delhi

اصغر کی شادی کے دن،صبح ساڑھے گیارہ بجے کے قریب اصغر کی بارات گھر سے نکل گئی۔ بارات میں کل 200 افراد شامل تھے۔ دلہن کے گھر میں پہلے نکاح پڑھایا گیا اور نکاح نامہ پر دستخط کئے گئے۔پھر اصغر روایت کے مطابق اپنی کچھ کزنز کے ساتھ بلقیس کے گھر گیا۔ جہاں اسے اس کی ساس نے خوش آمدید کہا۔ پھر رخصتی کا وقت آ گیا اوراصغر بارات کے ساتھ گھر واپس آ گیا۔ اس کے گھر پر تقریبا 1000 کے قریب مہمان تھے۔ نزدیکی لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے۔ ہر شخص نے اس موقع پر خوشی کا ظہار کیا۔

Chapter-III Summary of Twilight in Delhi

اصغر اپنی پسند کی لڑکی سے شادی ہو جانے پر بہت خوش تھا۔ لیکن جلد ہی اس نے محسوس کیا کہ مشتری بائی کی طرح بلقیس اپنی محبت کا اظہار نہیں کر سکتی تھی۔یقینا ان دونوں لڑکیوں میں اتنا فرق تو ضرور تھا کیونکہ بلقیس ایک مشرقی لڑکی تھی جبکہ مشتری بائی ایک پیشہ ور طوائف تھی جسے مردوں کو خوش کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔ بلقیس کو رومانوی فلموں اور ناولوں کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ وہ کبھی بھی مشتری بائی کی طرح اصغر کو لبھا نہ سکتی تھی۔ لیکن اسکا پیار اصغر کے لئے بہت گہرا تھا۔ اس نے اصغر کو خوش کرنے کی پوری کوشش کی لیکن اصغر اس کے جذبات کو نہ سمجھتا تھا۔

Chapter-IV Summary of Twilight in Delhi

کچھ دنوں بعد بلقیس حاملہ ہو گئی۔ اصغر خوش تھا کہ وہ باپ بننے والا ہے۔ اس نے بلقیس کا خیال رکھنا شروع کر دیا۔ بلقیس بھی بہت خوش تھی۔ مہرو کی شادی کا دن آ گیا۔ بارات بھوپال سے آئی تھی۔ مہرو کے منگیتر میرج کواب تک کسی نے بھی نہیں دیکھا تھا کیونکہ شادی کسی نمائندہ کے ذریعے طے کی گئی تھی۔ جب بارات دہلی پہنچی تو ہر کوئی دولہا کو دیکھ کر ناخوش ہوا کیونکہ وہ بدھا اور بے عقل تھا۔ لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔ شادی منسوخ نہ کی جاسکتی تھی کیونکہ یہ روایت کے خلاف تھا۔مہرو کی شادی اس سے کر دی گئی اور اسے اسکے خاوند کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔

Chapter-V Summary of Twilight in Delhi

بلقیس کے گھر لڑکی پیدا ہوئی جسکا نام جہان آرا رکھا گیا۔ اصغر بیٹی کی پیدائش پر ناخوش تھا کیونکہ وہ ایک بیٹا چاہتا تھا۔ لیکن اس نے اپنی ناخوشی خود تک ہی محدود رکھی۔ اسکے سسر نے اسے ایک اچھے ادارے میں نوکری پر لگوا دیا۔ اب وہ کچھ حد تک خوش تھا کیونکہ وہ معاشی طور پر آزاد ہو گیا تھا۔ جب اصغر کے سسر کی وفات ہوئی ، تب جہاں آرا ایک ماہ اور پندرہ دن کی تھی۔ اصغر نے اپنے سسر کے گھر کے سامنے ایک گھر خرید لیا۔ بلقیس اپنے گھر سے زیادہ اپنی ماں کے گھر رہنے لگی۔ اسکی چھوٹی بہن نے جہاں آرا کی پرورش میں بلقیس کی کافی مدد کی۔

Chapter-VI Summary of Twilight in Delhi

1912 میں لوگوں میں شعور آنا شروع ہوا۔ اب وہ کسی بھی قیمت پر برطانوی حکمرانوں سے آزاد ہونا چاہتے تھے۔ملک میں دہشت گردی کے واقعات اس بات کا ثبوت تھے کہ لوگ حکمرانوں سے آزادی چاہتے ہیں۔ حتیٰ کے Viceroy پر بھی بم پھینکا گیا اور اسے نشانہ بنایا گیا۔ شہر کی پرانی سرحدوں کو تباہ کر کے دہلی کو نئی دہلی کےساتھ تبدیل کر دیا گیا تھا۔ دہلی میں دیگر جگہوں سے لوگوں کو منتقل کیا جا رہا تھا۔ دہلی کے باشندوں نے ان کی صدیوں کی ثقافت کی اس آہستہ آہستہ تباہی پر غصہ کیا۔ میر نہال نے اب تک خود کو سماجی سرگرمیوں سے علیحدہ رکھا تھا۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت اپنے تین پوتوں کے ساتھ گزارتا تھا۔

Chapter-VII Summary of Twilight in Delhi

بلقیس کے لئے اصغر کا رویہ بہت تبدیل ہو گیا۔ بلقیس نے کئی دفعہ شکایت بھی کی لیکن اصغر نے سنی ان سنی کر دی۔ اسکا رویہ بہت سخت ہو گیا۔ بلقیس کی زندگی جہنم بن گئی۔ اسکا دل ٹوٹ گیا۔ اصغر اپنا زیادہ وقت گھر سے باہر گزارنے لگا۔ بلقیس نے اصغر کے غیر مناسب رویے کو دل پہ لے لیا جس سے اسکی صحت دن بدن خراب ہوتی گئی۔

Chapter-VIII Summary of Twilight in Delhi

عالمی جنگ نے نئے مسائل کو جنم دیا۔ بھارتیوں کو نام نہاد جنگوں کے لئے قربانی دینے کے لئے مجبور کیا گیا تھا جو کہ اصل میں غیر ملکی حکمرانی کا دفاع تھا۔ لوگوں کو مجبور کیا گیا کہ اپنے نوجوان بیٹوں کو جنگوں میں برطانوی فوجیوں کے طور پر بھیجیں۔ حکمرانوں کے خلاف لوگوں کی نفرت زیادہ واضح ہو گئی۔

Chapter-IX Summary of Twilight in Delhi

میر نہال نے اس تباہی کو دیکھا اور بخوبی اسکا جائزہ لیا۔ چھت پر بہت کم تعداد میں کبوتر ثقافت کے اختتام کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ جنگ میں مختلف لوگوں کی موت نے اسکی پریشانی میں اضافہ کیا۔ ایک دن جب وہ شام کی نماز پڑھ رہا تھا تو اسے فالج کا دورہ پڑا جسکی وجہ سے وہ بستر تک محدود ہو گیا۔ حکیم اجمل خان کے علاج نے اس کی بات کرنے کی صلاحیت کو بحال کیا ، لیکن اس کے جسم کے دائیں جانب کا حصہ مکمل طور پر فالج کیوجہ سے نااہل ہو گیا تھا۔ لہذا وہ اپنے بستر پرہی رہتا تھا اور اپنی زندگی کے خوشگوار لمحات کو یاد کرتا ۔ وہ اپنی ثقافت کو ختم ہوتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ آسمان میں بہت کم کبوتر دکھائی دیتے تھے۔ حتیٰ کی انکا کھجور کا درخت بھی پتوں سے محروم ہو گیا تھا۔

Chapter-X Summary of Twilight in Delhi

بیگم نہال نے میر نہال کی بہت خدمت کی لیکن اسکی اپنی نظر کمزور ہو گئی تھی۔ حتیٰ کہ وہ بالکل اندھی ہو گئی۔ اصغر اور عورتوں میں دلچسپی لینے لگا اورا پنا زیادہ وقت گھر سے باہر گزارتا۔ البتہ بلقیس کے ساتھ اسکا رویہ کچھ ٹھیک تھا لیکن وہ اس طرح کا بالکل نہ ہو سکا جیسا کہ شادی کے شروعاتی دنوں میں تھا۔اسی لئے بلقیس بھی صحت یاب نہ ہو سکی۔ اسکی صحت دن بدن خراب ہوتی جا رہی تھی۔ اس نے زندہ رہنے کی امید ترک کر دی تھی۔ وہ مرنا چاہتی تھی لیکن اسے اسکی بیٹی کی فکر ستاتی تھی۔ ایک دن اسکی ماں نے اسے بتایا کہ اگر وہ مر گئی تو وہ اسکی بیٹی، جہان آرا، کی دیکھ باال کرے گی۔ بلقیس کی ساری پریشانی ہی دور ہو گئی۔

Chapter-XI Summary of Twilight in Delhi

ایک رات اصغر نے بلقیس کو اس بری حالت میں دیکھا تو اسے اپنے غیر انسانی رویے پر بہت افسوس ہوا۔ وہ اس کے ساتھ بیٹھ گیا اور اسکے چہرے کی طرف دیکھنے لگا جو بالکل پیلا پڑ گیا تھا۔ اس نے محبت بھرے الفاظ سے بلقیس کو تسکین دینے کی کوشش کی لیکن بلقیس نے اسے بتایا کہ وہ بچ نہیں پائے گی۔بلقیس نے اسے نصیحت کی کہ اسکے مرنے کے بعد اصغر دوبارہ شادی کر لے۔ اصغر کی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔ اس نے بلقیس سے معافی طلب کی اور آئندہ اسکا خیال رکھنے کا وعدہ کیا۔ اگلی صبح اصغر، ڈاکٹر مترہ کو بلقیس کے چیک اپ کے لئے لے کر آیا۔ ڈاکٹر نے اسے دیکھا اور TB کی بیماری کی تشخیص کر دی۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ مرض میں کافی اضافہ ہو چکا ہے۔ مزید براں TB کا علاج اب تک دریافت نہ ہوا ہے۔ اصغر کے پیار نے کسی حد تک بلقیس کو تسکین دی اور اسکی حالت کچھ بہتر ہونے لگی۔اگلے کچھ ماہ اسکی زندگی کے بہترین دن تھے کیونکہ اصغر کا رویہ شادی کے شروعاتی دنوں جیسا ہو چکا تھا۔

Part-IV Summary of Twilight in Delhi

Chapter-I Summary of Twilight in Delhi

سال 1918 کے موسم گرما کے وسط تک عالمی جنگ عظیم دوئم نے دنیا کو مردوں کی دنیا میں تبدیل کر دیا تھا۔ مسلح افواج کے قتل عام کے علاوہ شہری آبادی کو بھی بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ۔ چھاپے، لوگوں کی خراب حالت، اور صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات کی شدید کمی کی وجہ سے شہری زندگی اور موت کی کشمکش میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔

جنگ کی وجہ سے اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ایک اور درد تھا۔ ضرورت زندگی کی چیزوں کی بات تو دور، قبر کی کھدائی کیلئے اور کفن دفن کی قیمتوں میں دو گنا سے بیا زیادہ اضافہ ہو گیا تھا۔ دہلی مہاکاویوں کی گرفت میں تھا۔ جنگ اور بیماریوں کے درمیان پھنسے، دہلی کے لوگ بدحال زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔روزانہ کئی افراد ہلاک ہو رہے تھے۔ قبرستانوں میں جگہ کم پڑ گئی تھی۔

Chapter-II Summary of Twilight in Delhi

وبائی زکام کے حملے نے بلقیس کی نازک صحت پر آخری حملہ کیا۔اس نازک حالت میں بیگم نہال نے دلچین اور مسرور کو اصغر کےگھر بلقیس کی دیکھ بھال کے لئے بھیجا۔ بیگم شہباز کا اکیلے ہی گھر کو سنبھالنا بہت مشکل تھا۔ اس لئے اسے اسطرح کی مدد کی ضرورت تھی، جو کہ اسے مل گئی تھی۔ ایک رات تقریبا چار بجے بلقیس نے مسرور کو اصغر کو بلانے کے لئے بھیجا۔ اسے پتا تھا کہ وہ اب یہ دنیا چھوڑنے والی ہے۔ جب اصغر آیا تو اس نے اصغر سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگی اور اسے نصیحت کی کہ وہ جہان ارا کا خیال رکھے۔ یہ کہتے ہی اسکی روح جسم سے پرواز کر گئی۔

Chapter-III Summary of Twilight in Delhi

اصغر، بلقیس کی موت پر بت غمزدہ تھا۔ وہ ہر روز قبرستان جاتا اور قبر پر پانی چھڑکتا ، قبر پر پھول بکھیرتا اور اس کی بخشش کی دعا کرتا ۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت قبرستان میں گزارتا۔لیکن کچھ ہی دنوں میں اسکا غم ہلکا ہو گیا اور اسکی صحت بہتر ہو گئی۔

Chapter-IV Summary of Twilight in Delhi

میر نہال کے گھر کی حالت اور بھی خراب ہو رہی تھی۔ میر نہال بدقسمتی سے اب بستر پر ہی محدود ہو گیا تھا۔ بیگم نہال بالکل اندھی ہو گئی تھی اور اسکی صحت بھی بگڑتی ہی جا رہی تھی۔مسرور میٹرک میں فیل ہو گیا تھا۔اسے ایک نوکری ملی لیکن وہ جلد ہی اس سےہاتھ دھو بیٹھا اور بے روزگار ہو گیا۔ میر نہال خاموشی سے چیزوں کو بکھرتے دیکھ رہا تھا۔ اصغر کبھی کبھار اس سے ملنے کے لئے آتا۔ لیکن میر نہال اب نا امید ہو چکا تھا۔ اسکی امید دوبارہ زندہ نہ ہو سکتی تھی۔

Chapter-V Summary of Twilight in Delhi

بلقیس کی موت کے بعد، اصغر ،جہان آرا کا بغیر کسی اور کی مدد کے خیال رکھتا۔ وہ خود ہی اسکے سارے کام کرتا حتیٰ کہ اسکے کپڑے بھی خود ہی سلائی کرتا اور پیوند بھی خود ہی لگاتا۔ بلقیس کی چھوٹی بہن زہرہ اسکی مدد کرنے کی کوشش کرتی لیکن وہ اسے موقع نہ دیتا۔ زہرہ سولہ سالہ ایک دلکش لڑکی تھی۔ وہ اپنی بہن بلقیس سے بھی زیادہ خوبصورت تھی۔ جب زہرہ اصغر کی زندگی میں دلچسپی لیتی تو اصغر کو خوشی ہوتی ۔ زہرہ کی نظر اسے ایک نئی امیداورجرات دیتی تھی۔

ایک شام، اصغر کو غم میں نڈھال دیکھ کر زہرہ نے اصغر کو دلاسہ دینے کی کوشش کی۔ وہ اس سے بات کرنے لگی اور اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے کی ہمت کو سراہنے لگی۔ اصغر نے اسکی آنکھوں میں اپنے لئے پیار دیکھا۔ اس نے زہرہ کو پنے پاس کھینچ لیا۔ شرماتے ہوئے وہ اپنے آپ کو چھڑا کر بھاگ گئی۔

چند دن اصغر نے زہرہ کو نہ دیکھا۔ وہ اس کے پیار میں پڑ چکا تھا۔ اسکی عدم موجودگی نے اسے اور بھی بے چین کر دیا تھا۔ حتیٰ کے جب وہ زہرہ کی ماں سے ملنے گیا تو زہرہ نے اس سے اجتناب کیا۔ ایک رات جب جہان آرا بہت رو رہی تھی تو اصغر کی ساس نے اپنی ایک ملازم چمبیلی کو اصغر کے پاس بھیجا۔ لیکن جہان آرا چپ نہ ہوئی۔ چمبیلی واپس گئی اور زوہرہ کو بھیجا۔ جب زہرہ آئی تو جہان آرا چپ ہو گئی اور اپنی خالہ کے ساتھ کھیلنے لگی۔ اصغر آگے بڑھا اور زوہرہ کو باہوں میں لے لیا اور اس سے اجتناب کی شکایت کی۔ زہرہ نے مزاحمت نہ کہ اور دونوں کے درمیان پرخلوص رومانس شروع ہوا۔

Chapter-VI Summary of Twilight in Delhi

30 ویں مارچ 1919 روولٹ ایکٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ شام تقریبا 5 بجے اپنے دفتر سے گھر آتے ہوئے اصغر نے پولیس کو گلیوں میں گشت کرتے دیکھا۔گلیوں کی دیواریں حکمرانوں کے خلاف نعروں سے بھری ہوئی تھیں۔ لوگوں کی طرف سے ایک تحریک شروع کی گئی۔ فائرنگ میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔ لیکن اصغر نے زہرہ کے علاوہ ہر چیز میں دلچسپی کھو دی تھی۔ اس نے اب اپنے والدین سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور سوچا کہ وہ پنے والدین سے کہے کہ وہ شادی کے معاملے میں اسکی مدد کریں اور زہرہ کی والدہ سے بات کریں۔ لیکن پھر اس نے اپنا منصوبہ بدل دیا اور خود ہی زہرہ کی ماں سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔

Chapter-VII Summary of Twilight in Delhi

اصغر کا بڑے بھائی حبیب الدین گھر پہنچ گیا۔ وہ بیمار تھا اور دہلی کے حکیموں سے اپنا علاج کروانا چاہتا تھا۔ اس کا بارہ سالہ بیٹا نسیم جو کہ چھٹی جماعت کا طالب علم تھا، اس کے ساتھ تھا۔ نسیم روحانی اور وطن پرست شاعری سناتا تھا۔ جب اصغر گھر پہنچا تو وہ اپنے بھائی اور بھتیجےنسیم سے گھرکے مردانہ حصے میں ملا جہاں میر نہال بھی موجود تھا۔ وہ سیاسی گفتگو سن رہا تھا جس میں اسکا بیٹا بھی ملوث تھا۔ حبیب الدین ایک سرکاری نوکری کرتا تھا لیکن وہ برطانوی راج کے خلاف تھا۔ اصغر سیاست میں دلچسپی نہ لیتا تھا لیکن برطانوی راج کے خلاف بات کو وہ بھی سنجیدہ لیتا تھا۔ تبھی سعید حسن آتاہے اورگفتگو میں حصہ لیتا ہے۔ اسکی اپنی رائے ہے۔ وہ کہتا ہےکہ وقت کے ساتھ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ اس لئے پریشان ہونے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔

Chapter-VIII Summary of Twilight in Delhi

اصغر نے زہرہ سے شادی کرنے کے ارادے کے بارے میں اپنی ماں سے بات کی، کیونکہ جہان آرا کا خیال رکھنے کے لئے اسے مدد کی ضرورت تھی اور زہرہ کے علاوہ اور کوئی بہتر مدد نہ کر سکتا تھا۔ بیگم نہال نے اس خیال کو سراہا کیونکہ وہ اپنے بیٹے کو خوش دیکھنا چاہتی تھی۔ایک کبڑے پن والی عورت میر نہال کے خاندان کے ساتھ رہنے کے لئے آئی تھی۔ وہ ہمیشہ اپنے ساتھ ایک بلی رکھتی تھی۔ اسنے ایک مردہ بچے کو جنم دیا تھا اور اسکے بعد وہ کبڑی ہو گئی تھی۔ اسکے بعد سے وہ اپنے رشتہ داروں میں ہی رہتی آ رہی تھی۔ جیسا کہ مالی طور پر وہ آزاد تھی اس لئے وہ پنے رشتہ داروں پر بوجھ نہیں تھی۔ اس نے اصغر اور اس کی ماں کے درمیان بات چیت کو سنا اور جا کر سب کچھ بیگم جمال کوبتا دیا۔

بیگم جمال اس بات سے خوش نہیں تھی۔ وہ بیگم شہباز کے پاس گئی اور اسے اصغر کے مقصد کے بارے میں آگاہ کیا۔ بیگم شہباز کو یہ بات سن کر غصہ آیا۔ اس نے کہا کہ وہ کبھی بھی زہرہ کی شادی اصغر سے نہیں کرے گی۔ اس نے اس دن کے بعد سے زہرہ کو اصغر کے پاس جانے سے بھی منع کر دیا اور کہا کہ وہ آئندہ سے اصغر سے پردہ کیا کرے۔ لیکن زہرہ کو جب موقع ملا وہ اصغر سے ملی اور ساری بات بتا دی۔ اس نے کہا کہ یہ سب بیگم جمال کا کیا دھرا ہے اور اسی نے بیگم شہباز کو شادی سے منع کیا ہے۔

اصغر ، بیگم جمال کے منفی رویے سے بہت دکھی ہوا۔ اس نے اپنے والد سے اس بارے میں بات کی۔ میر نہال نے غصے میں بیگم جمال کو جھڑکا جبکہ بیگم جمال اس وقت موجود نہ تھی۔ ایک جمعدارنی نے ساری بات سن لی اور جا کر بیگم جمال کو بتا دی۔ بیگم جمال نے اسے بہت برا سمجھا اور انجم زمانی، کے ساتھ گھر چھوڑ گئی۔ اس کے چلے جانے پر سارا خاندان افسردہ ہوا کیونکہ وہ تقریبا چالیس سال سے ان کے ساتھ رہ رہی تھی۔

بیگم نہال نے بیگم شہباز کو بلاوا بھیجا اور اصغر کے لئے زہرہ کا ہاتھ مانگا۔ بیگم شہباز نے کوئی تسلی بخش جواب نہ دیا۔ اس نے یہ کہ کر بات کو ٹال دیا کہ اشفاق سے بات کرے گی۔ اشفاق کے ساتھ اصغر کے تعلقات اچھے نہ تھے۔ اسلئیے بیگم جمال جانتی تھی کہ بیگم شہباز کا جواب نہ ہی ہے۔

Chapter-IX Summary of Twilight in Delhi

حبیب الدین کی حالت دن بدن خراب ہوتی گئی۔ وہ گھر کے مردانہ حصے میں ہی رہتا تھا تاکہ حکیم آسانی سے آ سکیں اور اسے دیکھ سکیں۔ میر نہال بھی وہیں تھا۔ حکیم، حبیب الدین کی بیماری کا علاج نہ کر سکے تو ڈاکٹر مترہ کو بلایا گیا۔ اس نے مرض تشخیص کیا تو پتا چلا کہ حبیب الدین کو TB ہے۔ اکتوبر میں حبیب الدین کو زنانہ حصے میں منتقل کر دیا گیا کیونکہ اسے دیکھ بال کی ضرورت تھی۔ اسکی بہنیں بیگم وحید اور بیگم مہرو بھی اسکی دیکھ بھال کے لئے واپس آ گئیں۔ میر نہال اور بیگم نہال کچھ نہ کر سکتے تھے البتہ وہ باقاعدگی سے اس کے لئے دعا کرتے تھے۔ ایک دین حبیب الدین نے اپنی بیوی کو روتے ہوئے دیکھا۔ اس نے اسے نہ رونے کے نصیحت کی اور دلاسہ دیا کہ اللہ کے فضل سے اس کی صحت جلد ٹھیک ہو جائے گی۔

Chapter-X Summary of Twilight in Delhi

حبیب الدین جانتا تھا کہاسکا اختتام قریب ہے۔ اس نےموت سے تین دن پہلے سب سے معافی مانگی ۔ کسی کو بھی اس سے شکایت نہ تھی کیونکہ وہ ایک نہایت شریف النفس تھا۔ ایک رات تقریبا گیارہ بجے ، اسکی روح جسم سے پرواز کر گئی۔ اس کے خاندان کو اسکی موت سے بہت صدمہ پہنچا ، کیونکہ وہ ہر دل عزیز تھا۔ بوڑھے ماں باپ کے لئے جوان بیٹے کی موت ایک بڑی مصیبت تھی ۔

دفن کے بعد اصغر کھانا کھا رہا تھا، اس نے دیکھا کہ زہرہ کی ملازمہ چمبیلی اس کو تلاش کر رہی ہے۔ اصغر باہر آیا۔ چمبیلی نے اصغر کو خط دیا جو کہ تقریبا گیارہ بجے رات کو لکھا گیا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ اگلی صبح زہرہ کی ماں اسکی شادی کسی سے کردے گی۔لیکن چمبیلی، حبیب الدین کی وفات کی وجہ سے، وہ خط وقت پر اصغر کو نہ دے سکی۔ اور جب تک وہ خط اصغر تک پہنچا، زہرہ کی شادی ہو چکی تھی۔

میر نہال اپنے بستر پر زندگی سے زیادہ موت کے قریب دیکھا جا سکتا تھا۔ یہ سورج کے غروب ہونے کا وقت تھا۔ آخری چیز جو اس نے coma میں جانے سے پہلے دیکھی وہ ایک پتنگ تھی جو کہ کھجور کے درخت میں پھنسی تھی۔ سورج غروب ہو چکا تھا اور رات کا اندھیرا ہر چیز پر چھا گیا تھا۔

Leave a Reply